عارفانہ کلام نعتیہ کلام
انؐ کا مقام ماورا وہم وگماں سے ہے
منزل بلند انؐ کی بہت آسماں سے ہے
سر پہ گنہ کا بوجھ لیے آ گئے غلام
ان کو کرم کی آس شہِؐ دو جہاں سے ہے
سرورؐ کے دل پہ اترا ہے ایسا کلامِ حق
عظمت میں بڑھ کے بے گماں کوہِ گراں سے ہے
کوثر کا جام لینے کو آئے نہیں یہاں
ہم کو غرض بس انؐ کے رُخ ضوفشاں سے ہے
پیدا ہوئی حضورؐ کے صدقے میں کائنات
سب کا وجود سرورؐ کون و مکاں سے ہے
باغِ بہشت روضۂ سرکارﷺ بالیقیں
ایسی زمیں ہے جس کا تعلق جناں سے ہے
اے پھول! خوب نعت میں تُو نے کِھلائے گُل
نسبت تجھے حجاز کے اس گلستاں سے ہے
تنویر پھول
No comments:
Post a Comment