Thursday, 12 January 2017

یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

یوں جو پلکوں کو مِلا کر نہیں دیکھا جاتا
ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا
کام اتنے ہیں بیابانوں کے، ویرانوں کے
شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا
جھانک لیتے ہیں گریباں میں، یہی ممکن ہے
ایسی پستی ہے کہ اُوپر نہیں دیکھا جاتا
جسکو خوابوں کی ضرورت ہو، اٹھا کر لے جائے
ہم سے اب اور یہ دفتر نہیں دیکھا جاتا

ذوالفقار عادل

No comments:

Post a Comment