عزم و ہمّت سے اُٹھا، جذ بۂ کامل سے اُٹھا
بوجھ ہستی کا گِراں بار تھا مُشکل سے اٹھا
اُس کے کھانے سے ہوا ہو گئی برکت ساری
جب بھی مُفلس کسی زردار کی محفل سے اٹھا
ایک بچہ بھی ڈرا سکتا ہے تجھ کو ناداں
خوف اللہ کا جس روز تِرے دل سے اٹھا
جانے کیا جان کے سچائی بیاں کر ڈالی
جل گئی نوکِ زباں، شُعلہ مِرے دل سے اٹھا
شعر کہتا نہیں واہ وائی کا مقصد رکھ کر
بات اچھی لگے کوئی تو اٹھا دل سے اٹھا
کیا ضروری ہے کہ یہ کام کریں موسیٰؑ ہی
تُو بھی شیطان کو انساں کے مقابل سے اٹھا
جُھوٹ کے پیڑ اُکھڑ جاتے ہیں اک جھٹکے میں
بار سچائی کا اے حق! کسی باطل سے اٹھا؟
اسرارالحق فیاضی
No comments:
Post a Comment