وہ گم ہوئے ہیں مسافر رہِ تمنا میں
کہ گرد بھی نہیں اب آرزو کے صحرا میں
ملی تھی جس کو نمو درد کی صلیبوں سے
وہ لمس بھی نہیں باقی مِرے مسیحا میں
کشید جن سے ہوئی تھی نئے زمانوں کی
وہ میکدے بھی ہوئے غرق موج صہبا میں
اٹھا لیا تھا جنہیں غم نے شہرِ ماتم سے
وہ حرف لکھے گئے ہیں خطِ شکیبا میں
جو لے گئیں مِرے یوسف کو بابِ زنداں تک
وہ چاہتیں بھی نہیں دامنِ زلیخا میں
وہ زخم جن سے ملا درد آشنائی کا
نہیں ہیں وہ بھی صمد اب مِرے سراپا میں
صمد انصاری
No comments:
Post a Comment