Monday, 10 May 2021

یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

 یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

اب اور زندہ رہنے کی مجھ کو دعا نہ دے

اب احتیاط شدتِ گِریہ نہ پوچھئے

ڈرتا ہوں میں وہ سن کے کہیں مسکرا نہ دے

لو میں نے دل کی اس سے لگائی تو ہے مگر

ڈر ہے یہ شمعِ غم کہیں دامن جلا نہ دے

کہنا تو ہے مجھے بھی حدیثِ غمِ حیات

لب کھولنے کی کاش اجازت زمانہ دے

ہو بجلیوں کا مجھ سے جہاں پر مقابلہ

یا رب وہیں چمن میں مجھے آشیانہ دے

اس دینے والے کے یہاں کس شے کی ہے کمی

تم مانگنے کی طرح جو مانگو تو کیا نہ دے

حساس میں بہت ہوں نہ لگ جائے دل کو ٹھیس

محفل میں مسکرا کے مجھے یوں صدا نہ دے

میں آشنائے درد و غم دل ہوں چارہ گر

جس سے افاقہ ہو مجھے ایسی دوا نہ دے

عاجز تمام عمر میں کھاتا رہا فریب

مجھ کو مِری وفاؤں کا ایسا صلہ نہ دے


عاجز ماتوی

No comments:

Post a Comment