Monday, 10 May 2021

مرکز سے کہیں دور کسی راہگزر میں

مرکز سے کہیں دور کسی راہگزر میں

پاؤ گے جو ملتا نہیں بھولے سے بھی گھر میں

وہ رمز طلب جس کی ہے محراب حرم میں

دل میں ہے تو کیا ڈھونڈئیے دیوار میں در میں

وہ بات پرانی ہوئی کب کے ہیں وہ قصے

رہتا تھا شب و روز جو سودا کوئی سر میں

کیا شورش دوراں کے مقابل نہیں رہتے

ڈرتے نہیں موجوں سے جو پلتے ہیں بھنور ہیں

دم لینے کو ٹھہرے ہیں تو کیا حوصلہ چھوٹا

باقی ہے ابھی کاوش پرواز تو پر میں

اب زاد سفر کیا ہے بجز آبلہ پائی

منزل تو خدا جانے مگر ہم ہیں سفر میں

حسرت کوئی باقی نہیں ٹوٹے ہوئے دل میں

رہتا ہے کہیں کوئی بھی ویران کھنڈر میں

تب وقت کوئی اور تھا شامیں تھیں سحر گوں

اب شب میں کوئی لطف ہے رضواں نہ سحر میں


رضوان اللہ

No comments:

Post a Comment