Monday, 10 May 2021

زندگی تیری حقیقت کو یہ کب جانتی ہے

 زندگی تیری حقیقت کو یہ کب جانتی ہے

خاک جو خاک میں ملتی ہے تو تب جانتی ہے

بھوک کا کون سا مذہب ہے عبادت کیا ہے؟

بھوک تو بھوک ہے روٹی کو ہی رب جانتی ہے

تیری نظروں کی شُعائیں ہیں کہاں جاتی بھلا

کر چکی ہے وہ محبت جبھی سب جانتی ہے

پہلے مانوس نہ تھی مجھ سے مگر دل میں ہی تھی

ہاں مگر دل میں وہی میرے ہے اب جانتی ہے

ناز اس کو لب و رُخسار پہ یوں ہی نہیں ہے

مقصد و معنی تِرے خواہشِ لب جانتی ہے

وہ سمجھتی ہے کہ مصروف ہوں دفتر میں اسد

اور مصروف کہاں ہوں میں وہ کب جانتی ہے


اسد قریشی

No comments:

Post a Comment