زندگی تیری حقیقت کو یہ کب جانتی ہے
خاک جو خاک میں ملتی ہے تو تب جانتی ہے
بھوک کا کون سا مذہب ہے عبادت کیا ہے؟
بھوک تو بھوک ہے روٹی کو ہی رب جانتی ہے
تیری نظروں کی شُعائیں ہیں کہاں جاتی بھلا
کر چکی ہے وہ محبت جبھی سب جانتی ہے
پہلے مانوس نہ تھی مجھ سے مگر دل میں ہی تھی
ہاں مگر دل میں وہی میرے ہے اب جانتی ہے
ناز اس کو لب و رُخسار پہ یوں ہی نہیں ہے
مقصد و معنی تِرے خواہشِ لب جانتی ہے
وہ سمجھتی ہے کہ مصروف ہوں دفتر میں اسد
اور مصروف کہاں ہوں میں وہ کب جانتی ہے
اسد قریشی
No comments:
Post a Comment