اس پہ حیران کچھ نہیں ہوتے
دل کے ارمان کچھ نہیں ہوتے
ہم کو چھت بھی نہیں میسر ہے
گھر کے دالان کچھ نہیں ہوتے
شب وہ سویا تھا پر نہیں اُٹھا
سچ میں انسان کچھ نہیں ہوتے
سب ہی نقصان ہیں محبت میں
اس میں نقصان کچھ نہیں ہوتے
اب وہ رخصت ہوا ہے گاؤں سے
اب وہ کھلیان کچھ نہیں ہوتے
بچھڑنے والے اگر بدل جائیں
پھر تو امکان کچھ نہیں ہوتے
عشق کرتا ہے سب کو ہی بیکل
اس میں نادان کچھ نہیں ہوتے
وہ بھی مانوس کم ہی ہوتا ہے
ہم بھی انجان کچھ نہیں ہوتے
میری آنکھوں میں خواب ہیں لیکن
شب کے مہمان کچھ نہیں ہوتے
ہم تو ہوتے ہیں ٹوٹنے کے لیے
ہم میری جان کچھ نہیں ہوتے
یہ جو مجنوں وغیرہ ہیں انصر
ان کے فرمان کچھ نہیں ہوتے
انصر منیر
No comments:
Post a Comment