Monday, 10 May 2021

اس پہ حیران کچھ نہیں ہوتے

 اس پہ حیران کچھ نہیں ہوتے

دل کے ارمان کچھ نہیں ہوتے

ہم کو چھت بھی نہیں میسر ہے

گھر کے دالان کچھ نہیں ہوتے

شب وہ سویا تھا پر نہیں اُٹھا

سچ میں انسان کچھ نہیں ہوتے

سب ہی نقصان ہیں محبت میں

اس میں نقصان کچھ نہیں ہوتے

اب وہ رخصت ہوا ہے گاؤں سے

اب وہ کھلیان کچھ نہیں ہوتے

بچھڑنے والے اگر بدل جائیں

پھر تو امکان کچھ نہیں ہوتے

عشق کرتا ہے سب کو ہی بیکل

اس میں نادان کچھ نہیں ہوتے

وہ بھی مانوس کم ہی ہوتا ہے

ہم بھی انجان کچھ نہیں ہوتے

میری آنکھوں میں خواب ہیں لیکن

شب کے مہمان کچھ نہیں ہوتے

ہم تو ہوتے ہیں ٹوٹنے کے لیے

ہم میری جان کچھ نہیں ہوتے

یہ جو مجنوں وغیرہ ہیں انصر

ان کے فرمان کچھ نہیں ہوتے


انصر منیر

No comments:

Post a Comment