Monday, 10 May 2021

یقین توڑے گمان چھینے

 یقین توڑے

گمان چھینے

ملے جو فُرصت تو سوچنا تم

تمہارے لفظوں نے میری آنکھوں سے کیسے کیسے جہان چھینے

سکون لے کر

قرار لے کر

بس ایک پَل میں جھٹک کے دامن

بدل کے رستہ چلے گئے ہو

شکستگی کے عذاب دے کر

وہی ہیں آنسو

وہی ہیں نالے

اب عمر بھر کی مسافتوں کے

بعد جس کو خبر ہوئی یہ

کہ بھٹک گئی ہوں میں راستے سے

بتاؤ ہمدم ذرا یہ مجھ کو

وہ اشک روکے یا دل سنبھالے

وہ کیسے دل سے تمہیں نکالے


فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment