Monday, 10 May 2021

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

 ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے

تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر

کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے

کسی نے نیند میں آ کر نہیں چُھوا ہم کو

یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے

پہل پہل تو وہ ہونٹوں سے دیکھے جاتے رہے

پھر اس کے بعد مِری آنکھ سے پُکارے گئے

تِرے وصال کی خواہش کہیں پہ رکھی گئی

تِرے وصال کے عرصے کہیں گُزارے گئے

مگر وہ لہر ہماری طرف نہیں پلٹی

اگرچہ دھیان بہت اس طرف ہمارے گئے

تمہارے جانے سے کُچھ خاص تو نہیں ہُوا، بس

چراغ رکھے گئے آئینے اتارے گئے


وسیم تاشف

No comments:

Post a Comment