ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے
تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے
تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر
کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے
کسی نے نیند میں آ کر نہیں چُھوا ہم کو
یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے
پہل پہل تو وہ ہونٹوں سے دیکھے جاتے رہے
پھر اس کے بعد مِری آنکھ سے پُکارے گئے
تِرے وصال کی خواہش کہیں پہ رکھی گئی
تِرے وصال کے عرصے کہیں گُزارے گئے
مگر وہ لہر ہماری طرف نہیں پلٹی
اگرچہ دھیان بہت اس طرف ہمارے گئے
تمہارے جانے سے کُچھ خاص تو نہیں ہُوا، بس
چراغ رکھے گئے آئینے اتارے گئے
وسیم تاشف
No comments:
Post a Comment