کسی کو ہجر کے مارے دکھائی دیتے ہیں
کسی کو صرف ستارے دکھائی دیتے ہیں
بغور جائزہ لے کر ہمیں بتاؤ میاں
کہ کس جگہ سے تمہارے دکھائی دیتے ہیں
میں کشمکش میں نہیں ہوں ڈرا ہوا ہوں ابھی
وگرنہ راستے، سارے دکھائی دیتے ہیں
یہاں تو تیرا ہی چہرہ نظر میں آتا ہے
جہاں کہیں بھی خسارے دکھائی دیتے ہیں
نماز پڑھ کے بھی جو لوگ خدا کے نہ ہوئے
تجھے وہ لوگ، ہمارے دکھائی دیتے ہیں
اسد منٹو
No comments:
Post a Comment