میں چاہتا ہوں محبت میں معجزہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں مگر کوئی مسٔلہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں خدا پر یقین ہو میرا
میں چاہتا ہوں زمیں پر کوئی خدا بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں مجھے دوسری محبت ہو
میں چاہتا ہوں کہانی میں کچھ نیا بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں قبیلے میں نام ہو میرا
میں چاہتا ہوں قبیلے سے واسطہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں جدائی کا موڑ آ جائے
میں چاہتا ہوں محبت میں راستہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں کہ وہ شخص ٹوٹ کر آئے
میں چاہتا ہوں مِرے پاس مشورہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں تمہیں بات بات پر ٹوکوں
میں چاہتا ہوں تمہاری کوئی سزا بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں مِری جان بھی چلی جائے
میں چاہتا ہوں مِرے ساتھ حادثہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں تِرے نام ایک نظم کہوں
میں چاہتا ہوں تِرا اس میں تذکرہ بھی نہ ہو
میں چاہتا ہوں کہ شہزاد آ ملے مجھ سے
میں چاہتا ہوں وہ لڑکا بُجھا بُجھا بھی نہ ہو
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment