دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیﷺ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہی تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو
جو ماسوا کی حد سے بھی آگے گزر گیا
اے رہ نوردِ جادۂ اسریٰ تمہی تو ہو
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ یثرب و بطحا! تمہی تو ہو
جو دستگیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے
جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو
دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment