تیری محفل میں دو عالم کو ہے سیری ساقی
تشنہ کامی میری توہین ہے تیری ساقی
محتسب کا اسے ڈر ہو جسے وہ دیکھ بھی لے
خم کا منہ کھول کہ ہے رات اندھیری ساقی
مے پلانی ہے تو لا خم کدۂ بطحا سے
ہند کی خاک سے اٹھ کر میں قدم لوں اس کے
آئے یثرب سے جو کرتا ہوا پھیری ساقی
مصلحت سوزیوں کی فوج کی یلغار ہے آج
جس نے بستی تیری ہر سمت سے گھیری ساقی
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment