عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جب نبیﷺ کی نعت میں مصروف ہوتا ہے قلم
کیسے کیسے خوش نما موتی پروتا ہے قلم
مغفرت کی التجا کرتا ہے کاغذ کے سپرد
معصیت کے اگلے پچھلے داغ دھوتا ہے قلم
کم نہیں خارِ مغلیان عرب سے اس کی نوک
اس کی ہر جنبش کا فریادی ہوا پاپاۓ روم
جس سے بیڑا اس کا قلزم میں ڈبوتا ہے قلم
ہنسنے لگتے ہیں معانی کے خیابانوں کے پھول
ابرِ نیساں کی طرح جس وقت روتا ہے قلم
راہِ حق میں سر کٹا کر بھی نہ چلنے سے رکا
جاودانی زندگی کا بیج بوتا ہے قلم
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment