Saturday, 24 December 2016

بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تو نے

حمد باری تعالیٰ

بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تُو نے
دکھائے اپنی قدرت کے ہمیں کیا کیا نشاں تو نے
تِری صنعت کے سانچے میں ڈھلا ہے پیکرِ ہستی
سمویا اپنے ہاتھوں سے مزاجِ جسم وجاں تو نے 
نہیں موقوف خلاقی تِری اس ایک دنیا پر 
کیے ہیں ایسے ایسے سینکڑوں پیدا جہاں تو نے
تِرے ادراک میں ہے عقل حیراں اور سرگرداں
ہمیں چکر میں ڈالا بخش کر وہم و گماں تو نے 
بہارِ عارضِ گل سے لگا کر آگ گلشن میں
طیورِ صبح خواں کو کر دیا آتش بجاں تو نے
جوانی میں جسے بخشی دل آرائی و رعنائی
بڑھاپے میں اسی عارض پہ ڈالیں جھریاں تو نے 
دلوں کو معرفت کے نور سے تو نے کیا روشن 
دکھایا بے نشاں ہو کر ہمیں اپنا نشاں تو نے
نہ ہوتی گر خودی ہم میں تو جو تو تھا وہی ہم تھے
یہ پردہ کس لیے ڈالا ہے یا رب! درمیاں تو نے 
ہم اب سمجھے کہ شہنشاہِ ملکِ لامکاں ہے تو 
بنایا اک بشر کو سرورِ کون ومکاں تو نے 
محمد مصطفیٰﷺ کی رحمتہ اللعالمینی سے
بڑھائی یا رب اپنے لطف اور احساں کی شاں تو نے 
حرم اور دیر میں بازار تیرا گرم رہتا ہے 
ہر اک بستی میں کرر کھی ہے قائم اک دکاں تو نے
ترے دربار سے مجھ کو یہی انعام کیا کم ہے 
کِیا اپنی ستائش میں مجھے رطب اللساں تو نے 
مے لاتقنطوا کے نشہ میں سرشار رہتا ہوں
سیہ مستوں کو بخشی ہے حیاتِ جادواں تو نے

مولانا ظفر علی خان

No comments:

Post a Comment