Saturday, 24 December 2016

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

حمد: خمستان ازل کا ساقی

پہنچتا ہے ہر اک میکش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا 
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی 
دوئی کے نقش سب جھوٹے، ہے سچا ایک نام اس کا 
ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے 
ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا 
میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مِرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے مقام اس کا 
سراپا معصیت میں ہوں سراپا مغفرت وہ ہے 
خطا کوشی روش میری خطا پوشی ہے کام اس کا 
نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے بے ڈھب گرفت اس کی 
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

مولانا ظفر علی خان

No comments:

Post a Comment