Saturday, 24 December 2016

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں 
اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں 
رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں، افلاک کے گنبد گنبد پر 
وحدت کی تجلی کوند گئی، آفاق کے سینا زاروں میں 
گر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں
جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اک کملی والےﷺ نے بتلا دیا چند اشاروں میں
وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں
ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی بوبکرؓ و عمرؓ، عثمانؓ وعلیؓ
ہم مرتبہ ہیں یارانِ نبیﷺ، کچھ فرق نہیں ان چاروں میں
جس میکدے کی اک بوند سے بھی لب کج کلہوں کے تر نہ ہوئے 
ہیں آج بھی ہم بے مایہ گدا اس مے کدے کے سرشاروں میں
ہم حق کے علم برداروں کا ہے اب بھی نرالا ٹھاٹھ وہی 
بادل کی گرج تکبیروں میں بجلی کی تڑپ تلواروں میں

مولانا ظفر علی خان

No comments:

Post a Comment