بچھڑ کے تجھ سے کہاں مطمئن رہے ہیں ہم
سُلگتے بُجھتے ہوئے رات دن رہے ہیں ہم
کسی بھی طور سہی زندگی بسر کر لی
گرفتہ دل ہی مگر تیرے بِن رہے ہیں ہم
تھی زندگی تو وہی جو کٹی محبت میں
کہ اب تو عمر کے دن رات گِن رہے ہیں ہم
نہیں ہیں ملنے کے درویش طبع لوگ ایسے
زمانے دیکھ کہ اب تجھ سے چھن رہے ہیں ہم
لیا ہے اپنی وفا کا بھی امتحان سکون
اور اپنے آپ پہ خود ممتحن رہے ہیں ہم
سلطان سکون
No comments:
Post a Comment