Wednesday, 3 February 2021

ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ

 ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ 

ستارے توڑ کے لائے گا آسمان سے وہ 

نہ ہم کو پار اتارا نہ آپ ہی اترا 

لپٹ کے بیٹھا ہے پتوار و بادبان سے وہ 

ہماری خیر ہے عادی ہیں دھوپ سہنے کے ہم 

ہوا ہے آپ بھی محروم سائبان سے وہ

 

تمام بزم پہ چھایا ہوا ہے سناٹا 

اٹھا ہے شخص کوئی اپنے درمیان سے وہ 

ابھی تو رفعتیں کیا کیا تھیں منتظر اس کی 

ابھی پلٹ کے بھی آیا نہ تھا اڑان سے وہ 

ہزار میلا کیا دل کو اس کی جانب سے 

کسی بھی طور اترتا نہیں ہے دھیان سے وہ 

اب اس کی یاد اب اس کا ملال کیسا ہے 

نکل گیا جو پرے سرحد گمان سے وہ 

وہ جس سکون کا اب آپ پوچھنے آئے 

چلا گیا ہے کہیں اٹھ کے اس مکان سے وہ 


سلطان سکون

No comments:

Post a Comment