Wednesday, 3 February 2021

لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہے

 لمحہ در لمحہ تِری راہ تکا کرتی ہے

ایک کھڈکی تِری آمد کی دعا کرتی ہے

ایک صوفہ ہے جسے تیری ضرورت ہے بہت

ایک کرسی ہے جو مایوس رہا کرتی ہے

سلوٹیں چیختی رہتی ہیں مِرے بستر پر

کروٹوں میں ہی مِری رات کٹا کرتی ہے

وقت تھم جاتا ہے اب رات گزرتی ہی نہیں

جانے دیوار گھڑی رات میں کیا کرتی ہے

بھول جاتا ہوں میں اکثر اسے فرج پر رکھ کے

آج کل کافی بھی خود کو ہی پیا کرتی ہے

چاند کھڑکی میں جو آتا تھا، نہیں آتا اب

تیرگی چاروں طرف رقص کیا کرتی ہے

میرے کمرے میں اداسی ہے قیامت کی مگر

ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے


عباس قمر

No comments:

Post a Comment