Wednesday, 3 February 2021

شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں

 شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں

ہم محبت نام کی آواز کے ہمراز ہیں

آج کل جو آسماں چھونے کی ضد پر ہیں اڑے

ایسے ہی ہم صاحبِ پرواز کے ہمراز ہیں

سلسلہ افواہ کا کیسے تھمے اس شہر میں

آپ کے ہمراز کے، ہمراز کے، ہمراز ہیں

بات کرتے ہیں بلندی کی پتہ چل جائے گا

وہ کسی کرگس کے یا شہباز کے ہمراز ہیں

داد میں ڈوبے ہوئے الفاظ ہی کہنے لگے

میرے نغمے اک شکستہ ساز کے ہمراز ہیں

یوں غمِ جاں کو بہا دیتے ہے آنکھوں سے یہاں

لوگ کتنے بے تکے انداز کے ہمراز ہیں


مصداق اعظمی

No comments:

Post a Comment