شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں
ہم محبت نام کی آواز کے ہمراز ہیں
آج کل جو آسماں چھونے کی ضد پر ہیں اڑے
ایسے ہی ہم صاحبِ پرواز کے ہمراز ہیں
سلسلہ افواہ کا کیسے تھمے اس شہر میں
آپ کے ہمراز کے، ہمراز کے، ہمراز ہیں
بات کرتے ہیں بلندی کی پتہ چل جائے گا
وہ کسی کرگس کے یا شہباز کے ہمراز ہیں
داد میں ڈوبے ہوئے الفاظ ہی کہنے لگے
میرے نغمے اک شکستہ ساز کے ہمراز ہیں
یوں غمِ جاں کو بہا دیتے ہے آنکھوں سے یہاں
لوگ کتنے بے تکے انداز کے ہمراز ہیں
مصداق اعظمی
No comments:
Post a Comment