Wednesday, 3 February 2021

کل خواب میں دیکھا سکھی میں نے پیا کا گاؤں رے

 کل خواب میں دیکھا سکھی میں نے پیا کا گاؤں رے 

کانٹا وہاں کا پھول تھا اور دھوپ جیسے چھاؤں رے 

جو دیکھنا چاہے انہیں، آ کر مجھی کو دیکھ لے 

ان کا مِرا اک روپ رے، ان کا مِرا اک ناؤں رے  

ہے ساتھ یوں دن رات کا، کنگنا جیسے ہاتھ کا

دل یاد میں الجھا ہے یوں، پائل میں جیسے پاؤں رے

مہندی میں لالی جس طرح، کانوں میں بالی جس طرح

جب یوں ملے تو کیا چلے دنیا کا ہم پہ داؤں رے

 سب سے سَرل بھاشا وہی سب سے مدھر بولی وہی 

بولیں جو نیناں بانورے، سمجھیں جو سیاں سانورے

ہم کب ملے کیسے ملے، کوئی نہ جانے بھید یہ

تھوڑا بہت جانیں حسن لیکن وہ ٹھیرا بانورے


حسن کمال

No comments:

Post a Comment