شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی
ہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی
بیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں
او ستم گر تِرے دل میں مِرا گھر ہو تو سہی
دل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل، لیکن
ہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی
ہم یہ سمجھیں گے کہ دل تھا ہی نہیں سینے میں
ان کی دزدیدہ نگاہوں کا اثر ہو تو سہی
چُھپ گیا آنکھوں سے اک نور بس اتنا کہہ کر
کیا بتانے میں حرج تھا کوئی گھر ہو تو سہی
کہہ کے یہ پھر گئی تھیں کاہکشاں سے آنکھیں
تجھ سے ملتی ہوئی وہ راہگزر ہو تو سہی
پھر دکھاؤں گا میں انمول جواہر عالم
مِری قسمت سے کوئی اہلِ نظر ہو تو سہی
عالم لکھنوی
No comments:
Post a Comment