Thursday, 8 September 2022

شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی

 شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی

ہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی

بیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں

او ستم گر تِرے دل میں مِرا گھر ہو تو سہی

دل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل، لیکن

ہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی

ہم یہ سمجھیں گے کہ دل تھا ہی نہیں سینے میں

ان کی دزدیدہ نگاہوں کا اثر ہو تو سہی

چُھپ گیا آنکھوں سے اک نور بس اتنا کہہ کر

کیا بتانے میں حرج تھا کوئی گھر ہو تو سہی

کہہ کے یہ پھر گئی تھیں کاہکشاں سے آنکھیں

تجھ سے ملتی ہوئی وہ راہگزر ہو تو سہی

پھر دکھاؤں گا میں انمول جواہر عالم

مِری قسمت سے کوئی اہلِ نظر ہو تو سہی


عالم لکھنوی

No comments:

Post a Comment