فضا میں موجودگی تِرے رنگ کی نہیں ہے
کسی بھی منظر میں اس لیے دلکشی نہیں ہے
پڑا ہوا ہوں نئی محبت کے بازوؤں میں
بہل گئی ہے مِری طبیعت لگی نہیں ہے
تمہیں میں آواز دوں تو آنا شراب لانا
کسی بھی شے کی مجھے ضرورت ابھی نہیں ہے
کوئی تو ہے جو صدائیں مجھ کو لگا رہا ہے
میں دیکھتا ہوں یہاں وہاں پر کوئی نہیں ہے
چلا گیا ہے تُو میری بزمِ خیال سے بھی
جوتُو نہیں ہے تو پھر تِری یاد بھی نہیں ہے
کئی دنوں سے گلاب شاخیں جُھکی ہوئی ہیں
کئی دنوں سے کسی کے لب پر ہنسی نہیں ہے
اس ایک لڑکی کی الجھنیں سب سلجھ چکی ہیں
اور اب مِری مشکلات کا حل کوئی نہیں ہے
تجھے کٹھن وقت میری دہلیز پر ہے لایا
بغیر مطلب کے تُو مجھے مل رہی نہیں ہے
چُھپا بدن کی نہ تُو خراشِ فریب مجھ سے
وہ جانتا ہوں جو بات تُو نے کہی نہیں ہے
تِرا دلاسا،۔ تِری تسلّی بجا ہے، لیکن
جو سچ کہوں تو مجھے یقیں واقعی نہیں ہے
یہاں اترنے کو دل نہیں کر رہا تھا میرا
اِسی لیے بھی ٹرین شاید رُکی نہیں ہے
کچھ اِس لیے بھی ہماری تنہائیوں میں گزری
کسی کی ہم سے، کسی سے اپنی بنی نہیں ہے
سروش جتنے خلا تھے مجھ میں وہ بھر چکے ہیں
سو اب مِری ذات میں کوئی بھی کمی نہیں ہے
اجمل سروش
No comments:
Post a Comment