Monday, 19 April 2021

محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے

 محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے

اگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہے

اگاؤ دور تک اے دوستوں فصلیں محبت کی

محبت جس جگہ ہوتی نہیں لعنت برستی ہے

وہ راہِ زندگی میں مسکرانا بھُول جاتا ہے

غریبی جس کو اپنی زلف کے پنجے میں کستی ہے

کبھی وہ جوش تھا اپنے کنارے کاٹ دیتی تھی

مگر اب تو ندی خود قطرے قطرے کو ترستی ہے

لٹیرے اور قاتل ہر جگہ ہیں شہر میں انجم

نہیں معلوم حاصل ان کو کس کی سر پرستی ہے


قمر انجم

No comments:

Post a Comment