انا کے خول سے باہر بھی آ کر دیکھ لیتے ہیں
بھلا وہ کیوں منائے ہم منا کر دیکھ لیتے ہیں
سنا ہے منزلوں سے جا کے رستے پھر نکلتے ہیں
کسی رستے کو ہم منزل بنا کر دیکھ لیتے ہیں
جدائی کا یہ بھرتا زخم بھی اچھا نہیں لگتا
یہی سچ ہے تو پھر اس کو بُلا کر دیکھ لیتے ہیں
محبت زرد موسم سے لپٹ کر جب بھی روتی ہے
تو بالوں میں گُلابوں کو سجا کر دیکھ لیتے ہیں
سبھی کچھ جانتے ہو، اور پھر الزام دیتے ہو
تو رسموں کی کوئی دیوار ڈھا کر دیکھ لیتے ہیں
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment