Monday, 19 April 2021

پیغام آ رہے ہیں مجھے کس دیار سے

 پیغام آ رہے ہیں مجھے کس دیار سے

اب تو نکال مجھ کو بدن کے حصار سے

کب تجھ سے ٹوٹتا ہے تِری ذات کا دوام

یہ بات ماوراء ہے تِرے اختیار سے

اک جسم ہی نہ سہہ یلغار موت کی

جاں کو بچا لیا ہے مگر اس کے وار سے

لگتی ہے برفزار کو سورج کی جب نظر

جنگل میں آگ لگتی ہے کرنوں کی دھار سے

ایک حشر یہ بھی ہو گا قیامت کے دن بپا

انساں لپٹ کے روئے گا پروردگار سے


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment