تم پہ میرا کوئی حق بھی نہیں دعویٰ بھی نہیں
آج تک میں نے اس انداز سے سوچا بھی نہیں
دل ہے نادان کہ کرتا ہے بھروسہ تم پر
تم تو تم ہو مجھے اب دل کا بھروسہ بھی نہیں
اب یہ لگتا ہے کہ برسوں کی محبت ہے مگر
خود جنوں بھی نہیں کچھ مائلِ شوریدہ سری
اور کچھ حسن کی جانب سے تقاضا بھی نہیں
پھر بھی تم یاد جوانی کی دلایا نہ کرو
ویسے تم سے تو کسی بات کا پردہ بھی نہیں
آج جیسے بھی ہیں جو کچھ ہیں غنیمت سمجھو
ورنہ کل بعد ہمارے کوئی اتنا بھی نہیں
دل ملا بھی تو ملا وحشی و آوارہ مزاج
بات سمجھاؤ تو کم بخت سمجھتا بھی نہیں
ہاۓ کس ناز سے کس انداز سے کہتے ہیں کہ ہم
تیرے قاتل بھی نہیں تیرے مسیحا بھی نہیں
تُو اگر اپنی نگاہوں سے گرا دے ساقی
پھر تو حیرت کا کہیں ٹھور ٹھکانا بھی نہیں
حیرت بدایونی
No comments:
Post a Comment