Wednesday, 9 September 2020

یوں روبرو کسی کو اچانک جو پا گئے

یوں روبرو کسی کو اچانک جو پا گئے
سب موسموں کے رنگ نگاہوں میں آ گئے
یہ کس طرح ہُوا کہ نظر تو جھکی رہی
اور وہ ہمارے دل کے سبھی راز پا گئے
پت جھڑ میں زندگی کے سبھی تو بچھڑ گئے
وہ لوگ اب کہاں جو کبھی دل کو بھا گئے
جو لوگ منزلوں کے بہت ہی قریب تھے
وہ لوگ اپنے گھر سے بہت دور آ گئے
موسم کا حسن جب مِرے دل میں اتر گیا
ساون کسی کی یاد کے آنکھوں میں آ گئے
یہ شبنمی ہوا، یہ مہکتی ہوئی فضا
اس جانِ ناتواں پہ عجب ظلم ڈھا گئے

رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment