یوں روبرو کسی کو اچانک جو پا گئے
سب موسموں کے رنگ نگاہوں میں آ گئے
یہ کس طرح ہُوا کہ نظر تو جھکی رہی
اور وہ ہمارے دل کے سبھی راز پا گئے
پت جھڑ میں زندگی کے سبھی تو بچھڑ گئے
جو لوگ منزلوں کے بہت ہی قریب تھے
وہ لوگ اپنے گھر سے بہت دور آ گئے
موسم کا حسن جب مِرے دل میں اتر گیا
ساون کسی کی یاد کے آنکھوں میں آ گئے
یہ شبنمی ہوا، یہ مہکتی ہوئی فضا
اس جانِ ناتواں پہ عجب ظلم ڈھا گئے
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment