خود اپنا جرم خود اپنی سزا تھی
وہ رات افسردگی کی انتہا تھی
سرِ شام آرزو ہی سو گئی تھی
نہ دل بے کل نہ ہونٹوں پر دعا تھی
ہوا بھی خشک لب ہی رینگتی تھی
دل رسوا کی برسوں کی کمائی
برنگِ آرزو زنجیرِ پا تھی
دریچے بند تھے اک بھوت گھر کے
کھلے آنگن میں پر بستہ ہوا تھی
کنویں کی کوکھ میں پتھر پہ لیٹی
صدا گونگی تھی لب نا آشنا تھی
نہ منزل کی تمنا کارواں کو
نہ ہمدم کوئی آوازِ درا تھی
نہ شاہینِ طلب پرواز خو تھا
نہ کوہ و دشت میں پاگل ہوا تھی
نہ کشتی تھی نہ موجیں کھیلتی تھیں
وہ سوکھی جھیل سب ساحل نما تھی
کسی کوچے میں عازم بجھ گیا تھا
غزل اس خامہ فرسا سے خفا تھی
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment