قیامت میں تکلف ہو، تکلف بھی قیامت کا
اگر ہم بھی ملا دیں اپنا کچھ ہنگامۂ فرقت کا
آ جاؤ، پھرتے چلتے کبھی غم کدہ میں تم
آنکھوں سے ہم بھی دیکھ لیں آنا بہار کا
غیروں سے آپ پوچھیں اپنی ادا کی شوخی
اللہ رے فتنہ زائی مرتا ہوں اس ادا پر
نظروں سے مار رکھیں اور نام لیں قضا کا
راقم اٹھائے ہم نے بہت جور یار کے
لیکن اٹھا سکے نہ ستم روزگار کا
راقم دہلوی
No comments:
Post a Comment