Thursday, 10 September 2020

بس سانس تو ہماری یوں دھڑکن میں رہ گئی

بس سانس تو ہماری یوں دھڑکن میں رہ گئی
خوشبو تمہاری دل کے ہی گلشن میں رہ گئی
خاموش لب تھے میرے، محوِ دید میں ہوا
پھر بات میرے من کی مِرے من میں رہ گئی
میں آ گیا وہاں سے سے، نظر اب تلک مِری
جاناں نگر میں ان کے ہے درشن میں رہ گئی
یوں تو حسین دیکھے ہزاروں مگر میاں
جو بات میرے یار کے جوبن میں رہ گئی
غمِ ہجر دے کے زندگی صحرا بنی مِری
پھر یاد تیری قلب کے درپن میں رہ گئی
ہر بات مسکرا کے تو کی تھی، مگر صنم
ملنے کی آس پھر وہیں چلمن میں رہ گئی
معصوم آج ہر کوئی ملتا غرض سے ہے
رشتوں کی ڈور وقت کی الجھن میں رہ گئی

معصوم صابری

No comments:

Post a Comment