بس سانس تو ہماری یوں دھڑکن میں رہ گئی
خوشبو تمہاری دل کے ہی گلشن میں رہ گئی
خاموش لب تھے میرے، محوِ دید میں ہوا
پھر بات میرے من کی مِرے من میں رہ گئی
میں آ گیا وہاں سے سے، نظر اب تلک مِری
یوں تو حسین دیکھے ہزاروں مگر میاں
جو بات میرے یار کے جوبن میں رہ گئی
غمِ ہجر دے کے زندگی صحرا بنی مِری
پھر یاد تیری قلب کے درپن میں رہ گئی
ہر بات مسکرا کے تو کی تھی، مگر صنم
ملنے کی آس پھر وہیں چلمن میں رہ گئی
معصوم آج ہر کوئی ملتا غرض سے ہے
رشتوں کی ڈور وقت کی الجھن میں رہ گئی
معصوم صابری
No comments:
Post a Comment