تری محفل میں جو آیا، با انداز عجب آیا
کوئی لیلیٰ ادا آیا، کوئی مجنوں لقب آیا
وہ مسجود ملائک کسوت انساں میں جب آیا
کبھی آدم لقب آیا، کبھی فخر عرب آیا
زباں جب ہو چکی تھی بند بیمار محبت کی
نگاہ بے نیازی سے ازل میں اس نے جب دیکھا
تزلزل سر زمین دل میں با شور و شغف آیا
یہی ان سے کہا تھا ہم گنہ گار محبت ہیں
قیامت ہو گئی برپا، ستم ٹوٹا، غضب آیا
تری محفل کے آنے جانے والے ساقیا دیکھے
نہ کوئی با خبر نکلا، نہ کوئی با ادب آیا
میں وہ جان تپیدہ تھا کہ میری سخت جانی کا
تماشا دیکھنے افقرؔ مسیحائے طلب آیا
افقر موہانی وارثی
No comments:
Post a Comment