یہ غل یہ شورشیں ایک ایک کارخانے کی
علامتیں ہیں یہی انقلاب آنے کی
ہمیں کو سونپ دے اپنی خوشی سے نظم و نسق
اسی میں خیر ہے ساقی شراب خانے کی
طلوعِ صبح بھی دیکھا، فروغِ ایمن بھی
ہم انقلاب ہیں، طوفاں ہیں، رک نہیں سکتے
ہماری راہ میں کوشش کرو نہ آنے کی
بنامِ گلشنِ آزاد، ساری دنیا میں
دکھائی جاتی ہے تصویر قید خانے کی
ہمیں خبر ہے کہ ظالم فریب دیتا ہے
ہمارے دل کو ہے عادت فریب کھانے کی
حصار ٹوٹ چکا ہے، اب اڑنے والی ہے
گرا کے شیش محل کو پری خزانے کی
جلا کے میرے نشیمن کو باغبانوں نے
لکھی ہے آگ سے تاریخ آشیانے کی
سحر قریب ہے اب بھیرویں سنا حیرت
خلافِ وقت نہ گا راگنی شہانے کی
حیرت بدایونی
No comments:
Post a Comment