Thursday, 10 September 2020

یہ غل یہ شورشیں ایک ایک کارخانے کی

یہ غل یہ شورشیں ایک ایک کارخانے کی
علامتیں ہیں یہی انقلاب آنے کی
ہمیں کو سونپ دے اپنی خوشی سے نظم و نسق
اسی میں خیر ہے ساقی شراب خانے کی
طلوعِ صبح بھی دیکھا، فروغِ ایمن بھی
مگر وہ بات کہاں اس کے مسکرانے کی
ہم انقلاب ہیں، طوفاں ہیں، رک نہیں سکتے
ہماری راہ میں کوشش کرو نہ آنے کی
بنامِ گلشنِ آزاد، ساری دنیا میں
دکھائی جاتی ہے تصویر قید خانے کی
ہمیں خبر ہے کہ ظالم فریب دیتا ہے
ہمارے دل کو ہے عادت فریب کھانے کی
حصار ٹوٹ چکا ہے، اب اڑنے والی ہے
گرا کے شیش محل کو پری خزانے کی
جلا کے میرے نشیمن کو باغبانوں نے
لکھی ہے آگ سے تاریخ آشیانے کی
سحر قریب ہے اب بھیرویں سنا حیرت
خلافِ وقت نہ گا راگنی شہانے کی

حیرت بدایونی

No comments:

Post a Comment