کتابِ ہجر میں اک حرفِ نارسا کی طرح
مجھے بھی لکھے کوئی جون، فارہہ کی طرح
بھلے یہ ہاتھ بندھے ہیں، مگر یہ کاجل ہے
سو پھیل جاتا ہے اک کاسۂ گدا کی طرح
وہ مجھ سے ملتا تھا ہر بار اپنی شرطوں پر
مجھے ستاتی رہیں تتلیاں شرارت سے
گلوں کی بات وہ کرتا رہا صبا کی طرح
جو بات کرتا تھا مجھ سے مِرے ہی لہجے میں
نہ آیا لوٹ کے واپس مِری صدا کی طرح
یہ بات طے تھی کہ رہنا ہے اجنبی بن کر
سو اوڑھ لی تِری بے گانگی ردا کی طرح
ہمارے بیچ اگر کچھ نہیں تو پھر کیا ہے
نبھاتے رہتے ہیں دونوں جسے وفا کی طرح
مجھے ہی جلدی تھی کچھ کام اور نپٹا لوں
وہ آ کے بیٹھا تھا اچھا بھلا سدا کی طرح
کسی کے ہاتھوں کی گرمی سے جب ملی ٹھنڈک
تو یاد آ گئی سؔیما مجھے رسا کی طرح
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment