وصل کی شب تھی، عجب ایک نظارہ دیکھا
میں نے جب چاند کے پہلو میں ستارا دیکھا
تم نے دیکھا ہے، نہیں، تم نے کہاں دیکھا ہے
میں نے جو ڈوبنے والے کا "اشارا" دیکھا
پھر محبت کے امر ہونے کا ایقان ہوا
ایک سا کب یہاں رہتا ہے، بدل جاتا ہے
کیسا بدلا ہے تِرے وقت کا دھارا دیکھا
پھر تو آنکھوں میں کوئی اور ہی تصویر بنی
جب تجھے ایک جھلک بزم میں یارا دیکھا
آپ ہی ضد پہ آڑے تھے ہمیں اپنانے کی
ہم نہ کہتے تھے بہت ہو گا خسارا، دیکھا؟
بے سبب دیکھی مہربانی بھی ان کی رضیہ
اور بے بات پہ چڑھتا ہوا پارا دیکھا
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment