جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
تو اٹھے ہیں دھواں ہو کر، گرے ہیں بجلیاں ہو کر
کچھ آگے بڑھ چلی سامانِ راحت لامکاں ہو کر
فلک پیچھے رہا جاتا ہے گردِ آسماں ہو کر
کسی دن تو چلے اے آسماں بادِ مراد ایسی
نہ جانے کس بیاباں نے مٹی نہیں پائی
بگولے جا رہے ہیں کارواں در کارواں ہو کر
وفورِ ضبط سے بے تابئ دل بڑھ نہیں سکتی
گلے تک آ کے رہ جاتے ہیں نالے ہچکیاں لے کر
گلوگیر اب تو ایسا انقلابِ رنگِ عالم ہے
کہ نغمے نکلے منقارِ عنادل سے فغاں ہو کر
جو ہو کر ابر سے مایوس خود سینچے کبھی دہقاں
جلا دیں کھیت کو پانی کی لہریں بجلیاں ہو کر
ہنسے کوئی نہ بجلی کے سوا اس دارِ ماتم میں
اگر رہ جاۓ سارا کھیت کشتِ زعفراں ہو کر
گھٹائیں گھر کے کیا کیا حسرتِ فرہاد پر روئیں
چمن تک آ گئیں نہریں پہاڑوں سے رواں ہو کر
حیدر نظم طباطبائی
No comments:
Post a Comment