اپنی تلخئ مے سے ساغر ٹوٹ گیا
پینے والا آنسو پی کر ٹوٹ گیا
بت کو پجاری بیچ کے کھانے آ نکلا
شرمِ گنہ سے تیشۂ آزر ٹوٹ گیا
جادو اب بھی ایک جہاں پر غالب تھا
خواب کے شہر میں سایۂ ابرِ بہاراں تھا
آنکھ کھلی تو سارا منظر ٹوٹ گیا
ٹوٹ گیا پَل بھر ہی میں سیلاب کا زور
اک پُل، اک دیوار گِرا کر ٹوٹ گیا
بوجھ اپنی شاخوں کا بھی کم بوجھ نہ تھا
کیسا تھا وہ پیڑ تناور، ٹوٹ گیا
پھر وادی سے گولی کی آواز آئی
پھر میرے شاہین کا شہپر ٹوٹ گیا
عازم آج غزل کیوں سہمی سہمی ہے
سوچ صدف میں موتی کیونکر ٹوٹ گیا
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment