Thursday, 10 September 2020

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
مرض بیٹھے بٹھائے مول لینا اس کو کہتے ہیں
غم فرقت ہے کھانے کو شب غم ہے تڑپنے کو
ملا ہے ہم کو وہ جینا کہ مرنا اس کو کہتے ہیں
بہت مغرور ہیں سرو و صنوبر قد موزوں پر
دکھائیں گے کسی قامت کو زیبا اس کو کہتے ہیں
وہ بد خو ہے جفا جو ہے ستمگر ہے سمجھتا ہوں
اسی کا پھر تمنائی ہوں سودا اس کو کہتے ہیں
ہماری آرزو کیا ہے تمنا ہے رقیبوں کی
کہ بے خواہش بر آتی ہے تمنا اس کو کہتے ہیں
مقدر کھینچ لائے گا کبھی تم کو دکھا دیں گے
مرادیں یوں بر آتی ہیں تمنا اس کو کہتے ہیں
جب ان ناکامیوں پر منحصر ہے زندگی اپنی
خدایا مرگ کیا ہو گی جو جینا اس کو کہتے ہیں
خدنگ عشق تم کھاتے حقیقت تم پہ کچھ کھلتی
مزا فرقت کا آتا دل لگاتا اس کو کہتے ہیں
نہ نکلے جب کوئی ارماں نہ کوئی آرزو نکلی
تو اپنی حسرتوں کا خون ہونا اس کو کہتے ہیں
محبت دونوں جانب ہو تو لطف عشق ہے ورنہ
بناۓ عشق کا پانی پہ رکھنا اس کہ کہتے ہیں
یہ کیا عشق و محبت ہے نہ آتے ہو نہ ملتے ہو
نہیں یہ کھیل لڑکوں کا تو پھر کیا اس کو کہتے ہیں
کرو اس رنگ سے خواہش کہ ہر خواہش میں خواہش ہو
وہ سن کر کہہ اٹھیں راقم تقاضا اس کو کہتے ہیں

راقم دہلوی

No comments:

Post a Comment