مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی
موت کا پیغام آۓ گا زبانی آپ کی
زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے
مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی
بعد مردن کھینچ لایا جذبِ دل سینے پہ ہاتھ
بڑھ چکا قد بھی فروغِ حسن کی حد ہو چکی
اب تو قابل دیکھنے کے ہے جوانی آپ کی
آپ سے مل کے گلے راحت سے آ جاتی ہے نیند
سبزۂ خوابیدہ ہے پوشاک دھانی آپ کی
آنکھوں پر بندھوائی پٹی تا نہ دیکھوں اور کو
مر گیا میں، پر وہی ہے بد گمانی آپ کی
جب وہ مجھ کو دیکھتا ہے ہنس کے کہتا ہے رشید
کتنی پابند وفا ہے زندگانی آپ کی
رشید لکھنوی
No comments:
Post a Comment