Thursday, 10 September 2020

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی 
موت کا پیغام آۓ گا زبانی آپ کی 
زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے 
مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی 
بعد مردن کھینچ لایا جذبِ دل سینے پہ ہاتھ
اک انگوٹھی میں جو پہنے تھا نشانی آپ کی
بڑھ چکا قد بھی فروغِ حسن کی حد ہو چکی
اب تو قابل دیکھنے کے ہے جوانی آپ کی
آپ سے مل کے گلے راحت سے آ جاتی ہے نیند
سبزۂ خوابیدہ ہے پوشاک دھانی آپ کی
آنکھوں پر بندھوائی پٹی تا نہ دیکھوں اور کو
مر گیا میں، پر وہی ہے بد گمانی آپ کی
جب وہ مجھ کو دیکھتا ہے ہنس کے کہتا ہے رشید
کتنی پابند وفا ہے زندگانی آپ کی

رشید لکھنوی

No comments:

Post a Comment