مکالمہ
قتل گاہ کی رونق حسبِ حال رکھنی ہے
غم بحال رکھنا ہے جاں سنبھال رکھنی ہے
زور بازوئے قاتل انتہا کا رکھنا ہے
دشنہ تیز رکھنا ہے اور بلا کا رکھنا ہے
اور کیا میرے قاتل انتظام باقی ہے
وقت پر نظر رکھنا، وقت ایک جادہ ہے
ہاں بتا میرے قاتل! تیرا کیا ارادہ ہے؟
وقت کم رہا باقی، یا ابھی زیادہ ہے؟
میں تو قتل ہونے تک مسکرائے جاؤں گا
مسکرائے جاؤں گا
پیرزادہ قاسم صدیقی
No comments:
Post a Comment