کبھی ہوا، تو کبھی خاکِ رہ گزر ہونا
مِرے نصیب میں لکھا ہے در بدر ہونا
اگر چلو تو مِرے ساتھ ہی چلو، لیکن
کٹھن سفر سے زیادہ ہے ہمسفر ہونا
اداس اداس یہ دیوار و در بتاتے ہیں
قدم اٹھے بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
غضب ہے راہ کا اتنا بھی مختصر ہونا
یہ دور کم نظراں ہے تو پھر ہنر کا زیاں
جو ایک بار نہ ہونا، تو "بیشتر" ہونا
پیرزادہ قاسم صدیقی
No comments:
Post a Comment