فاصلہ ضد ہی رہا، جس کو مٹایا نہ گیا
تم سے آیا نہ گیا، ہم سے منایا نہ گیا
عمر بھر ایک سے خوابوں سے ہوا ہے گھاٹا
زندگی! ہم سے تِرا قرض چکایا نہ گیا
ایک انبار تھا شکوؤں کا مِرے چاروں طرف
گو کہ ہربات تِری دل سے بھلا دی ہے مگر
آخری خط وہ تِرا، ہم سے جلایا نہ گیا
ہجرتیں، شہر کی رونق کو نگل لیتی ہیں
جانے والوں کا مِرے شہر سے سایہ نہ گیا
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment