Wednesday, 9 September 2020

مجھ کو بس ایک ٹھکانہ پڑتا ہے

مجھ کو بس ایک ٹھکانہ پڑتا ہے
سائے کو دیوار بنانا پڑتا ہے
میرے آنسو اکثر کم پڑ جاتے ہیں
مجھ کو دریا پاس بلانا پڑتا ہے
بعد میں جا کر عشق سہولت دیتا ہے
پہلے خاصا "ہجر" کمانا پڑتا ہے
اس کو رخصت کرنا ہو دروازے تک
جاتا کون ہے،. جانا پڑتا ہے
اس کو فرصت ہوتی ہے کب ملنے کی
مجھ کو اکثر خواب میں جانا پڑتا ہے
ہوتا ہوں میں خرچ تمہارے رستے پر
تم کو تو بس ایک بہانہ پڑتا ہے
تم تو میری جان آزمانے والے ہو
مجھ کو میری جان آزمانا پڑتا ہے
دل کب انصر عشق پہ مائل ہوتا ہے
اب تو اس کو گھیر کے لانا پڑتا ہے

انصر منیر

No comments:

Post a Comment