مجھ کو بس ایک ٹھکانہ پڑتا ہے
سائے کو دیوار بنانا پڑتا ہے
میرے آنسو اکثر کم پڑ جاتے ہیں
مجھ کو دریا پاس بلانا پڑتا ہے
بعد میں جا کر عشق سہولت دیتا ہے
اس کو رخصت کرنا ہو دروازے تک
جاتا کون ہے،. جانا پڑتا ہے
اس کو فرصت ہوتی ہے کب ملنے کی
مجھ کو اکثر خواب میں جانا پڑتا ہے
ہوتا ہوں میں خرچ تمہارے رستے پر
تم کو تو بس ایک بہانہ پڑتا ہے
تم تو میری جان آزمانے والے ہو
مجھ کو میری جان آزمانا پڑتا ہے
دل کب انصر عشق پہ مائل ہوتا ہے
اب تو اس کو گھیر کے لانا پڑتا ہے
انصر منیر
No comments:
Post a Comment