Saturday, 10 December 2016

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

 ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

لوگوں نے کِیا چاند کے صحراؤں کو آباد

ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں

خسرو ہے نہ شیریں نہ تیشہ ہے نہ فرہاد

برسوں سے یہ خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ

گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد

سنسان ہے زنداں بھی، بسان دلِ شاعر

نے شورِ سلاسل ہے، نہ ہنگامۂ فریاد

شہرؔت کو ہے اب وجہِ پریشانئ احباب

اٹھ جاۓ گا جس روز تو آئے گا بہت یاد


شہرت بخاری

No comments:

Post a Comment