ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد
لوگوں نے کِیا چاند کے صحراؤں کو آباد
ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں
خسرو ہے نہ شیریں نہ تیشہ ہے نہ فرہاد
برسوں سے یہ خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ
گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد
سنسان ہے زنداں بھی، بسان دلِ شاعر
نے شورِ سلاسل ہے، نہ ہنگامۂ فریاد
شہرؔت کو ہے اب وجہِ پریشانئ احباب
اٹھ جاۓ گا جس روز تو آئے گا بہت یاد
شہرت بخاری
No comments:
Post a Comment