Saturday, 10 October 2020

ہر سمت غم ہجر کا طوفان ہے محسن

 ہر سمت غمِ ہجر کا طوفان ہے محسن

مت پوچھ کہ ہم کتنے پریشان ہیں محسن

ہر چہرہ نظر آتا ہے تصویر کی صورت

ہم شہر کے لوگوں سے بھی انجان ہیں محسن

جس شہرِ محبت نے ہمیں لوٹ لیا ہے

اس شہر سے ابھی مجھ کو امکان ہے محسن

کشتی ابھی امید کی ڈوبی تو نہیں ہے

پھر کیوں تیری آنکھوں میں یہ طوفان ہے محسن

کر ان کا ادب، رکھ انہیں سینے سے لگا کر

یہ درد یہ تنہایاں مہمان ہیں محسن


محسن نقوی​

No comments:

Post a Comment