Saturday, 10 October 2020

تو چل اے موسم گریہ

  اے موسم گریہ


تو چل اے موسم گریہ پھر اب کی بار بھی ہم ہی

تری انگلی پکڑتے ہیں تجھے گھر لے کے چلتے ہیں

وہاں ہر چیز ویسی ہے کوئی منظر نہیں بدلا

ترا کمرہ بھی ویسے ہی پڑا جس طرح تُو نے

اسے دیکھا تھا چھوڑا تھا

ترے بستر کے پہلو میں رکھی اس میز پر اب بھی

دھرا ہے مگ وہ کافی کا

کہ جس کہ خشک اور ٹوٹے کناروں پر

ابھی تک وسوسوں اور خواہشوں کی جھاگ کے دھبے نمایاں ہیں

قلم ہے، جس کی نب پر رت جگوں کی روشنائی یوں لرزتی ہے

کہ جیسے سوکھتے ہونٹوں پہ پپڑی جمنے لگتی ہے

وہ کاغذ ہیں

جو بے روئے ہوئے کچھ آنسوؤں سے بھیگے رہتے ہیں

ترے چپل بھی رکھے ہیں

کہ جن کے بے ثمر تلووں سے وہ سب خواب لپٹے ہیں

جو اتنا روندے جانے پر بھی اب تک سانس لیتے ہیں

ترے کپڑے

جو غم کی بارشوں میں دھل کے آئے تھے

مری الماریوں کے ہینگروں میں اب بھی لٹکے ہیں

دلاسوں کا وہ گیلا تولیہ

اور ہچکیوں کا ادھ گھلا صابن

چمکتے واش بیسن میں پڑے ہیں اور 

ٹھنڈے گرم پانی کی وہ دونوں ٹونٹیاں اب تک 

رواں ہیں تو جنہیں اس دن

کسی جلدی میں چلتا چھوڑ آیا تھا

دریچے کی طرف دیوار پر لٹکی گھڑی

اب بھی ہمیشہ کی طرح 

آدھا منٹ پیچھے ہی رہتی ہے

کلنڈر پر رکی تاریخ نے پلکیں نہیں جھپکیں

اور اس کے ساتھ آویزاں

وہ اک مہکارتا منظر

وہ ایک تصویر جس میں وہ 

مرے شانے پہ سر رکھے مرے پہلو میں بیٹھی ہے

مری گردن اور اس کے گیسوؤں کے پاس اک تتلی 

خوشی سے اڑتی پھرتی ہے

کچھ ایسا سحر چھایا ہے

کہ دل رکتا، ہوا چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے

مگر اے موسم گریہ

اسی ساعت 

نجانے کس طرف سے تُو چلا آیا

ہمارے بیچ سے گزرا

ہمارے بیچ سے تُو اس طرح گزرا

کہ جیسے دو مخالف راستوں کو کاٹتی سرحد

کہ جس کے ہر طرف بس دوریوں کی گرد اڑتی ہے

اسی اک گرد کی تہہ سی

تجھے دروازے کی بیل پر جمی شاید نظر آئے

کوئی تصویر کے اندر کمی شاید نظر آئے

تمنا سے بھری آنکھیں جو ہر دم مسکراتی تھیں

اب ان آنکھوں کے کونوں میں نمی شاید نظر آئے


امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment