Saturday, 10 October 2020

کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے

 کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے

ہر اک سایہ اک آنکھ ہے

جس میں عشرت کدوں نارسا خواہشوں

ان کہی دل نشیں داستانوں کا میلا لگا ہے

مگر آنکھ کا سحر پلکوں کی چلمن کی ہلکی سی جنبش ہے

اور کچھ نہیں ہے

کسی آنکھ کا سحر دائم نہیں ہے

ہر اک سایہ

چلتی ہوا کا پراسرار جھونکا ہے

جو دور کی بات سے

دل کو بے چین کر کے چلا جائے گا

ہر کوئی جانتا ہے

ہواؤں کی باتیں کبھی دیر تک رہنے والی نہیں ہیں

کسی آنکھ کا سحر دائم نہیں ہے

کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے


منیر نیازی

No comments:

Post a Comment