یوں تو ساحل بھی بلاتا رہا اصرار کے ساتھ
چھیڑ خانی ہمیں اچھی لگی منجدھار کے ساتھ
سر بھی مزدور کا اونچا ہوا دیوار کے ساتھ
تم اسے دیکھ نہیں پاؤ گے دستار کے ساتھ
مجھ کو مٹی سے محبت ہے تجھے آندھی سے
میں قدم کیسے ملاؤں تِری رفتار کے ساتھ
ڈوبتے رہتے ہیں تاریک سمندر میں جہاز
روشنی لپٹی رہی خوف سے مینار کے ساتھ
اب زمانے میں نہیں نرم کلامی کا رواج
پھول پر اوس بھی گرتی ہے تو جھنکار کے ساتھ
کھلکھلاتی ہے کلی چاک گریباں ہو کر
لہلہاتا ہے چمن نرگس بیمار کے ساتھ
مظفر حنفی
No comments:
Post a Comment