Saturday, 10 October 2020

یوں تو ساحل بھی بلاتا رہا اصرار کے ساتھ

 یوں تو ساحل بھی بلاتا رہا اصرار کے ساتھ

چھیڑ خانی ہمیں اچھی لگی منجدھار کے ساتھ

سر بھی مزدور کا اونچا ہوا دیوار کے ساتھ

تم اسے دیکھ نہیں پاؤ گے دستار کے ساتھ

مجھ کو مٹی سے محبت ہے تجھے آندھی سے

میں قدم کیسے ملاؤں تِری رفتار کے ساتھ

ڈوبتے رہتے ہیں تاریک سمندر میں جہاز

روشنی لپٹی رہی خوف سے مینار کے ساتھ

اب زمانے میں نہیں نرم کلامی کا رواج

پھول پر اوس بھی گرتی ہے تو جھنکار کے ساتھ

کھلکھلاتی ہے کلی چاک گریباں ہو کر

لہلہاتا ہے چمن نرگس بیمار کے ساتھ


مظفر حنفی

No comments:

Post a Comment